سورہ الزمر، سورہ المومن اور سورہ حم السجدہ ان سورتوں میں ایک خاص اسلوب ؟

سورہ الزمر، سورہ المومن اور سورہ حم السجدہ۔

اللہ کی مہربانی سے قرآن کے تین چوتھائی حصے کی تفسیر سے استفادہ کرلیا، ایک ایک آیت میں اللہ نے موتی پروئے ہیں جو اس سے پہلے مجھے بغیر تفسیر پڑھے پوری طرح دکھائی نہیں دے سکے تھے، لیکن اوپر بیان کی گئی تین سورتوں نے جو سماں باندھا، وہ ناقابل بیان ہے۔ شان توحید کیا ہوتی ہے، ان سورتوں کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلا۔ اللہ تعالی کی عظمت، بزرگی و برتری کا احوال پتہ چلا، عبادت اور خالص عبادت کے فرق کا پتہ چلا، اللہ کا اپنے فرمانبردار بندوں پر کرم اور نافرمانوں کیلئے بے نیازی کا پتہ چلا۔

ان سورتوں میں ایک خاص اسلوب ہے جو بیک وقت اللہ سے محبت اور اس کی ناراضگی کا خوف پیدا کرتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ اگر میری عبادت کرنی ہے تو مکمل یکسوئی اور خالص عبادت کرو، اگر ایک فیصد بھی ملاوٹ کردی تو پھر رکھو اپنی عبادت اپنے پاس، اللہ کو ایسی ادھوری عبادت کی کوئی ضرورت نہیں۔ صرف اللہ سے مانگو، صرف اسی کا ڈر اور خوف دل میں رہے، صرف اسی کی خوشنودی مطلوب ہو ۔ ۔

پھر اللہ فرماتا ہے کہ وہ جنت میں ایسے لوگوں کی ہر وہ خواہش پوری کرے گا جس کی وہ تمنا کریں گے۔ اللہ نے ہر خواہش پر زور دیا ہے، یعنی آپ کی سوچ کی وسعت جہاں تک جاسکے، آپ اس کی تمنا کرلیں، اللہ آپ کو وہ سب اور اس سے کہیں زیادہ عطا فرمائے گا۔ اتنا بڑا وعدہ، اتنا بڑا انعام، اور ہماری اتنی آؤ بھگت ۔ ۔ ۔ بدلے میں اللہ کیا مانگتا ہے، صرف توحید بالعقیدہ اور توحید بالعبادت۔

کیا دنیا میں کوئی اور کام، کوئی اور محنت، کوئی حاکم، کوئی باس اتنا بڑا ریٹرن دے سکتے ہیں جو اللہ دے رہا ہے؟

یہاں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ توحید کا مطلب صرف یہ نہیں کہ بت پرستی چھوڑ کر اللہ کی وحدانیت کا زبان سے اقرار کرلیں۔ توحید بالعقیدہ اور توحید بالعبادت کا مطلب یہ ہے کہ ہم جو کچھ بھی کریں، وہ صرف اور صرف اللہ کی خوشنودی کیلئے ہو۔ کسی بھی لمحے اگر ہمارے دل میں اللہ کے علاوہ کسی اور کی خوشنودی کا خیال آجائے اور ایسا کام کرلیں جو اللہ کے احکامات کی نفی کرتا ہو تو پھر جان لیں کہ ہماری ساری عبادت پر پانی پھر گیا۔ االلہ پھر ہم جیسوں کیلئے ہی فرماتا ہے کہ لے جاؤ اپنی یہ عبادت، اسے اس کی کوئی ضرورت نہیں ۔ ۔ ۔

مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ اس سال فروری کے وسط تک میں موت سے بہت ڈرتا تھا، ہر سال سالگرہ مناتے وقت یہ خیال اداس کرجاتا تھا کہ زندگی کا ایک سال اور کم ہوگیا، مرنے کا تصور آتے ہی بھوک پیاس اڑ جاتی، قبر کے تصور سے خوف آتا، دنیا کی ساری رنگینیاں آنکھوں کے سامنے آجاتیں اور مجھے لگتا کہ مرنے کے بعد دنیا کی یہ سب آسائشوں سے محروم ہوجاؤں گا۔

پھر فروری کے تیسرے ہفتے سے قرآن کی تفسیر کا مطالعہ کرنے کے بعد الحمدللہ اب دل سے موت کا خوف بالکل ختم ہوچکا۔ بلکہ بعض اوقات تو اللہ سے ملاقات کا شرف حاصل کرنے کا خیال آتا ہے تو دل کرتا ہے کہ موت جلد آجائے، اللہ سے ملاقات ہو، اللہ کے نبی ﷺ کا دیدار ہو، نبی ﷺ کے صحابہ اکرام کی صحبت نصیب ہو ۔ ۔ ۔ جنت میں اس دنیا کے مقابلے میں لاکھوں کروڑوں بلکہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ ٹھاٹھ باٹھ سے زندگی گزارنے کا موقع ملے ۔ ۔ ۔
جہاں نہ تو کاروباری مندے کا ڈر ہو، نہ نوکری کی کوئی جھنجھٹ۔ نہ بیماری ستائے اور نہ ہی ڈھلتی عمر کا کوئی روگ ہو۔

اب موت سے بالکل ڈر نہیںِ لگتا، ڈر اگر لگتا ہے تو اس کٹہرے سے جس میں کھڑے ہو کر اللہ کا سامنا کرنا پڑے گا، ڈر اگر لگتا ہے تو اس سوالنامے سے جو اللہ کے حکم سے فرشتے کریں گے، ڈر اگر لگتا ہے تو اپنے اعمال نامے سے، کہ جس میں پتہ نہیں کب کب اور کس جگہ خلوص نیت میں کمی آگئی اور غیر اللہ کو اللہ پر فوقیت دے دی ۔ ۔ ۔

جب یہ سوچتا ہوں تو پھر کوئی پٹواری، جماعتی یا ڈیزلی برا نہیں لگتا، اللہ سے یہی دعا نکلتی ہے کہ مجھ سمیت سب کے گناہ معاف فرمادے اور عبادت میں جو کمی کوتاہی ہوئی، اسے درگزر فرمائے۔

بس یہ اطمینان ضرور ہے کہ زندگی میں کبھی بھی، کسی بھی موقع پر، جب بھی کوئی پریشانی آئی تو اللہ سے شکوہ نہیں کیا، اس کا شکر ادا کرکے اس سے مدد مانگی۔

اب بھی اللہ سے ہی مدد مانگ رہا ہوں کہ اللہ ہم سب کو ہدایت دے اور اپنی پناہ گاہ میں رکھے۔ آمین!!

اپنا تبصرہ بھیجیں